RECENT POST
Showing posts with label Urdu Articles. Show all posts
Showing posts with label Urdu Articles. Show all posts

Wednesday, May 25, 2011

Baaton K Bhoot




bilkul sahi..ye bhoot to barhtay he ja rahay hain her ghar main ye bhoot paye jatay hain..aur inn ki zuban b bari ghair qanuni qisam ki hai hehehehehe...

Monday, November 15, 2010

Dunia Ki Yeh Reet Purani Hai


Admi Dunia Mein Akela Aata Hai


Dunia Ki Bheerh Mein Akela Hi Reh Jata Hai


Aur Dunia Se Akela Hi Chala Jata Hai


Jesay Gulshan May Koi Phool Khilta Hai


Andhion ki Atay Hi Shakh Se Toot Parta Ta Hai


Phir Pairo Talay kuchalta Hai, Rondta Hai, Masalta Hai



Aur Andhion Ki Jatay Hi Baharon Ka Mosam Ro Parta Hai


Aur Yunhi Roo Roo Ker Fariyad Kerta Hai


Ashkoo Ko Seene Mein Piroota Hai


Her Laakt-e-Jigar Khoon Se Holi Rangta Hai


Phir Mulk, Mulk Qayamet Ka Samah Hota Hai


Aur Gulshan, Gulshan, Gul Jalta Rehta Hai



Somere dosto Rab-ul-Kareem dunia mein apnay pyaro say qadam, qadam perImtihan Leta hai lekin ham sab hi ko chaiye ki hum apna emaan hameshamazboot rakhein taki Allah Pak hum per apni azmaish asaan kerdein isDunia mein aur Akhrat mein hamein kabhi tanha na chorein kyun ki duniamein zulm hamesha se hi kaim hai, per zulm kerne wala kabhi kaim nahinrehta, ek na ek din to usay apnay buoy huay ka katna parta hai..

Hamein apnay naik amalo se Khuda ko Raazi rakhna chaiye aur sath hisath Rab-ul-Kareem se Amun ki Dua mangni chaiye, taaki Rab-ul-Kareemhamein apnay Hifz-o-Amaan mein rakhein aur in insaniyat ki dushmano sehamein bacha lein Ameen Sum Ameen.

Wednesday, July 28, 2010

IT Education » Urdu Articles
Social Networking Websites 

Saturday, April 17, 2010

ہیکرز کس طرح کام کرتے ہیں


انٹرنیٹ سیکیورٹی کے مسائل کی نوعیت ہو سکتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بظاہر کسی عام اور بے ضرر سی  ای میل کے ساتھ آنے والی کوئی اٹیچ منٹ ایک کلک کے ساتھ  ہی متحرک ہوکر کمپیوٹر پر حملہ کردیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں  یا تو کمپیوٹر میں کوئی  پیچیدہ وائرس داخل ہوکر اس کے اندرونی سسٹم کو نقصان پہنچاتا ہے  یا پھر اس کے ذریعے کمپیوٹر میں موجودمعلومات چوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
 ای میل  ایسا ایک عام ذریعہ ہے جس کی مدد سےہیکر پرسنل کمپیوٹرز کا کنٹرول حاصل کرتے ہیں۔
 وائرس یا Malicious سافٹ ویر کی مدد سے ہیکرز ایک پرسنل کمپیوٹر کو بڑے روبوٹ نیٹ ورک یا بوٹ نیٹ کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ جسے بعد میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بڑے حملے کے لیے استعمال  کیا  جا سکتا ہے۔
 رینڈی وایکرز  ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی کی کمپیوٹر ایمرجنسی ریڈی نس ٹیم یا CERT کے ایکٹنگ ڈائریکٹر ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بہت سے گھریلو کمپیوٹرز پر مناسب یا تازہ ترین  سیکیورٹی سافٹ ویر نہیں ہوتے۔
 وہ کہتے ہیں کہ ہم اچھے لوگوں کو جانتے ہیں اور مثلاً  سمتھ کوئی بری عورت نہیں ہیں۔ان کا کمپوٹر اسی وقت ہیک ہو گیا تھا اور اب وہ  بوٹ نیٹ کے ذومبیز میں سے ایک ہے۔ وہ کمپیوٹر ایک  ہاٹ پوانٹ ہے بن چکاہے کہ  جسے کوئی دوسرا  شخص ریموٹ کے ذریعے  استعمال کر رہا ہے۔
 کمپیوٹر کے ماہرین  کو یاد رکھنا چاہیے کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کرتی ہے۔ ہیکرز اس کو توڑے کے طریقے بھی ڈھونڈھ لیتے ہیں۔ اس لیے سافٹ ویر اپ ڈیٹس نہایت اہم ہیں۔ چاہے وہ گھر کے کمپیوٹرز ہوں حکومتی یا کارپوریٹ کمپیوٹرز ہوں۔
 وایکرز کہتے ہیں کہ جیسے شروع میں گاڑیوں میں عام حفاظتی انتظامات  نہیں  ہوتے تھے، اسی طرح  بہت سے ادارے سائبر سیکیورٹی اسی وقت شامل کرتے ہیں جب انہیں  اس کی ضرورت ہوتی ہے۔
 وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ دنیا کی سب سے پہلی تیار ہونے والی گاڑی کو دیکھیں تو اس میں نہ تو سیٹ بیلٹس تھیں نہ ہی اس میں ونڈ شیلڈ تھی۔ آپ  کسی چیز کو ٹکڑ مارا دیں تو۔۔۔۔۔مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے کیاکچھ تبدیلیاں کی ہیں ۔ہم نے ماضی میں جو سیکھا ہے اس کی بنیاد پر مستقبل کی توقع کرنا سیکھی ہے۔
 سٹیو لوکاسک نیشنل سیکیورٹی امور کے ماہر ہیں اور سائبرحملوں  کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی کمپیوٹر سسٹم میں ہیکرز کے داخل ہوجانے کے بعد وہ کیا کچھ کرسکتے ہیں، آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
  وہ کہتے ہیں کہ سائبر حموں  کا مقصد چیزوں کو درہم برہم کرنا ہے۔یہ اس سے ذرا مختلف ہے جس کے بارے میں لوگ فکر مند ہیں۔ لیکن اگر آپ ایک ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو آپ کو چیزیں ایسے طریقے سے خراب کرنا ہوں گی کہ انہیں ٹھیک کرنے میں زیادہ وقت لگے۔
 2007 میں امریکی حکومت نے ایک ویڈیو کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ایسا حملہ کتنا تباہ کن ہو سکتا ہے۔پہلے بڑی ٹربائنوں سے سفید دھواں خارج ہوتا ہے ۔ اور پھر حتی کہ پوراسسٹم مفلوج ہوجاتا ہے۔لوکاسک کہتے ہیں کہ اس جیسا ایک حملہ شاید بڑا مسئلہ نہ ہو، مگر بہت سےحملے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں۔
 لوکاسک کہتے ہیں کہ ضروری انفراسٹرکچر کو بچانے کی حکمتِ عملی کی تیاری میں  توانائی اور ابلاغ کے ذرائع سب سے اہم ہیں۔ اور یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ  سائبر خطروں سے نمٹنے  کے لیے  کوئی ایک حل نہیں ہے۔
 ماہرین کے خیال میں جیت کا مطلب ہے کہ ہم ایسے کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سائبر جرائم کا مقابلہ ایک مسلسل جنگ ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گی۔
KeyWord: 
Hacking Guide hacked free for hackers Wireless Hacking The Hacker's Hacker Ko Pakarny how to hack a Pc Hack Windows XP WiFi Hack 2010 Useful hacking Mobile Hacking Best Hacking Tools Email Password Hacking articles Hack Facebook Hacking Exposed Remember hacking

 

blogger templates | Make Money Online